FocusNews Pakistan Largest News Network فوکس نیوز

وقت پر دوا کھانا کیوں ضروری ہے؟

وقت پر دوا کھانا کیوں ضروری ہے؟

وقت پر دوا کھانا کیوں ضروری ہے؟

وقت پر دوا کھانا کیوں ضروری ہے؟

کیا واقعی دوا کھانے کا صحیح وقت دوا جتنا ہی اہم ہے؟

اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ کچھ دوائیں صبح کیوں لی جاتی ہیں، کچھ رات کو؟ بعض کو کھانے کے بعد کیوں تجویز کیا جاتا ہے اور بعض کو خالی پیٹ؟ یہ صرف ڈاکٹر کی “عادت” نہیں بلکہ اس کے پیچھے گہری سائنسی حکمت چھپی ہوتی ہے۔

آج ہم اس تحریر میں ان مختلف وجوہات پر روشنی ڈالیں گے جو دوا کے صحیح وقت کو اہم بناتی ہیں۔

جسم کی اندرونی گھڑی اور دوا کا اثر

ہمارے جسم میں ایک فطری گھڑی چلتی ہے جسے circadian rhythm کہتے ہیں۔ یہ گھڑی دماغ کے ایک خاص حصے میں موجود ہوتی ہے جو دن اور رات کا فرق روشنی کے ذریعے پہچانتا ہے، اور جسم کے مختلف اعضاء کو وقت کے مطابق کام کرنے کے اشارے دیتا ہے۔

مثلاً:کولیسٹرول کم کرنے والی ادویات جیسے statins، جگر کے ایک خاص انزائم کو روکتی ہیں۔ چونکہ جگر سب سے زیادہ کولیسٹرول رات کو بناتا ہے (رات 8 سے 12 بجے کے درمیان)، اس لیے یہ دوا بھی رات کو لی جاتی ہے تاکہ وہ زیادہ مؤثر ہو۔

 دوا کے سائیڈ ایفیکٹس اور وقت کا تعین

کبھی کبھار دوا کے وقت کا تعلق اس کے ممکنہ سائیڈ ایفیکٹس سے ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر:

پیشاب آور دوائیں (diuretics) اگر رات کو لی جائیں تو بار بار باتھ روم جانے کی وجہ سے نیند خراب ہو سکتی ہے، اس لیے انہیں صبح یا دن میں لینا بہتر ہوتا ہے۔

اسی طرح، سستی یا نیند لانے والی دوائیں جیسے الرجی، نزلہ، یا کھانسی کی ادویات، رات کو دی جاتی ہیں تاکہ دن کے وقت غنودگی نہ ہو۔

 کھانے کے ساتھ یا خالی پیٹ دوا کیوں؟

ہمارے ہاضمے کا نظام دوا کو خون میں پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اور اسی سے یہ طے ہوتا ہے کہ دوا کھانے کے بعد لینی ہے یا پہلے۔

مثلاً:فیٹ سولیبل وٹامنز کھانے میں موجود چکنائی کے ساتھ بہتر جذب ہوتے ہیں۔اسپرین خالی پیٹ لینا معدے کو نقصان دے سکتا ہے۔جبکہ پیٹ کی تیزابیت کم کرنے والی ادویات (Proton Pump Inhibitors) کھانے سے پہلے زیادہ مؤثر ہوتی ہیں تاکہ کھانے کے ساتھ ہی اثر دکھانا شروع کریں۔

دوا کا دوسری دوا سے تعامل

بعض دوائیں اگر ایک ساتھ لی جائیں تو وہ ایک دوسرے کے اثرات کو بڑھا یا گھٹا سکتی ہیں۔

مثال:Statins کے ساتھ کچھ دوائیں یا یہاں تک کہ گریپ فروٹ جو بھ دوا کے خون میں لیول کو خطرناک حد تک بڑھا سکتا ہے۔

یہ اثر ہمیشہ براہِ راست نقصان دہ نہیں ہوتا، لیکن دوا کی طاقت ضرورت سے زیادہ یا کم ہو سکتی ہے، جس سے فائدہ کی جگہ نقصان ہو سکتا ہے۔

دوا کا جسم میں لیول برقرار رکھنا

کچھ ادویات جسم میں زیادہ دیر نہیں ٹکتیں، اور وہ جگر یا گردوں کے ذریعے جلدی خارج ہو جاتی ہیں۔ ایسی ادویات کو دن میں دو یا تین بار لینا ضروری ہوتا ہے تاکہ جسم میں ان کی مطلوبہ مقدار مستقل برقرار رہے۔

:نتیجہ

دوا صرف “کیا” لینی ہے یہ اہم نہیں، بلکہ “کب” لینی ہے یہ بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ صحیح وقت پر دوا لینا اس کے اثر کو بڑھاتا ہے، سائیڈ ایفیکٹس کم کرتا ہے، اور علاج کو زیادہ مؤثر بناتا ہے۔

اگر کبھی شک ہو کہ دوا کس وقت لینی چاہیے، تو ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے ضرور مشورہ کریں۔

یاد رکھیں: وقت صرف گزرنے کے لیے نہیں، دوا کے اثر کے لیے بھی اہم ہوتا ہے۔

اگر آپ کو یہ معلوماتی بلاگ پسند آیا ہو تو شیئر کریں، اور اگر کسی خاص دوا کے وقت یا استعمال سے متعلق سوال ہو، تو کمنٹ میں ضرور بتائیں۔

Previous Post
Next Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »