FocusNews Pakistan Largest News Network فوکس نیوز

رجب بٹ کا مذہبی ٹچ کتنا افسانہ کتنا سچ

رجب بٹ کا مذہبی ٹچ کتنا افسانہ کتنا سچ

رجب بٹ کا مذہبی ٹچ کتنا افسانہ کتنا سچ

رجب بٹ کا مذہبی ٹچ کتنا افسانہ کتنا سچ

رجب بٹ—وہی سادہ سا یوٹیوبر جس نے اپنی فیملی ویلاگز سے شہرت پائی، آج اچانک تنازعوں کے طوفان میں کھڑا ہے۔ اُس کی پہچان تھی گھریلو ماحول، چھوٹی چھوٹی خوشیاں، اور روزمرہ کی باتیں۔ لیکن پھر ایک دن اچانک، اُس نے ایک نیا موڑ لیا۔ ’’295‘‘ نامی پرفیوم لانچ کیا اور اس کے ساتھ ایسا دعویٰ داغا: ’’میں نوں کسے دا بھار نئیں۔‘‘ بس پھر کیا تھا—سوشل میڈیا پر ایک بھونچال آ گیا۔ الزام، غصہ، ویڈیوز، تبصرے، اور آخرکار، حسبِ روایت ایک معذرت۔

لیکن یہ قصہ اتنا سیدھا نہیں جتنا دکھتا ہے۔ جس نمبر ’’295‘‘ کو اُس نے اپنے برانڈ کا نام بنایا، وہ صرف ایک عدد نہیں بلکہ ایک حساس قانونی دفعہ ہے جو ناموسِ رسالتؐ سے متعلق ہے۔ اور یہی نمبر پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کے مشہور گانے کا ٹائٹل بھی ہے۔ وہی سدھو، جسے اس کے چاہنے والے ’مرشد‘ مانتے ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ رجب بٹ کو یہی نمبر کیوں سوجھا؟ کوئی اور نمبر نہیں تھا؟ 786 یا 313؟ یا پھر یہ سوچا گیا کہ 295 زیادہ بکے گا کیونکہ اس کے ساتھ جذبات جُڑے ہیں؟ شاید۔

پھر وہی پرانی کہانی دہری گئی۔ پہلے تنازع کھڑا کرو، پھر حیرت ظاہر کرو، پھر معذرت پیش کرو، پھر عمرہ کی ویڈیو، اور آخر میں ایک درد بھرا کیپشن۔ ایک ایسا اسکرپٹ جسے اب سوشل میڈیا پر بار بار دہرایا جا رہا ہے۔ ناظرین کی آنکھوں میں آنسو لانے کے لیے اب خانہ کعبہ کا پس منظر استعمال ہوتا ہے، تاکہ معصومیت کا لبادہ اور گہرا ہو جائے۔

یہ معاملہ صرف ایک برانڈ یا ایک جملے کا نہیں، بلکہ ایک وسیع تر رجحان کی علامت ہے۔ ایک ایسا رجحان جس میں مذہب، جذبات، اور حساس قومی معاملات کو صرف مواد بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے: ہم کب تک ان ’ڈراموں‘ کو برداشت کرتے رہیں گے؟ کیا ہر وہ شخص جو کیمرے کے سامنے آ جائے، اُسے اجازت ہے کہ وہ قوم کی عقیدتوں سے کھیلتا پھرے؟

آج رجب بٹ ہے، کل کوئی اور ہوگا۔ ایک نیا چہرہ، نئی اداکاری، اور نیا سکرپٹ۔ لیکن یہ نہ بھولیں کہ سچ کا اپنا ایک وقت ہوتا ہے۔ کانٹروورسی ایک حد تک بیچتی ہے، اُس کے بعد صرف خاموشی بچتی ہے۔ اور جب تماشہ ختم ہو جاتا ہے، تو بچتا ہے صرف سوال—کیا واقعی یہ سب معصومیت تھی، یا پھر ایک خوبصورت چال؟

 

Previous Post
Next Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »