FocusNews Pakistan Largest News Network فوکس نیوز

افغان مہاجرین کے پاکستان کے انخلاء کیلیے زبردست کریک ڈاؤن

افغان مہاجرین کے پاکستان کے انخلاء کیلیے زبردست کریک ڈاؤن

افغان مہاجرین کے پاکستان کے انخلاء کیلیےزبردست کریک ڈاؤن

افغان مہاجرین کے پاکستان کے انخلاء کیلیےزبردست کریک ڈاؤن

پاکستانی حکومت نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی درخواستوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے افغان مہاجرین کی جبری واپسی کا نیا مرحلہ شروع کر دیا ہے، جس کے تحت دس لاکھ افغان باشندوں کو وطن واپس بھیجا جا رہا ہے۔ یہ کارروائی طالبان کے ممکنہ مظالم سے بچنے والے افراد کے لیے خدشات کو جنم دے رہی ہے۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق اسلام آباد میں حکام نے جمعہ 4 اپریل سے افغان باشندوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے۔ پولیس نے متعدد افراد کو حراست میں لے کر مختلف کیمپوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے، جہاں سے انہیں افغانستان روانہ کیا جائے گا۔ وزارت داخلہ کے ایک اہلکار ذوالکفل حسین کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن اُس ڈیڈ لائن کے بعد شروع ہوا ہے، جو افغانوں کی رضا کارانہ واپسی کے لیے دی گئی تھی۔

یہ سلسلہ پہلی بار 2018ء میں شروع ہوا تھا، جب غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی واپسی پر زور دیا گیا۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق نومبر 2023 کے بعد سے اب تک 9 لاکھ کے قریب افغان باشندوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے۔ اب حکومت تیسرے مرحلے میں اقوام متحدہ کے ادارے UNHCR کے ساتھ رجسٹرڈ مزید 10 لاکھ مہاجرین کو بھی ملک بدر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

پولیس کے ترجمان محمد نعیم کے مطابق زیادہ تر گرفتاریاں خیبرپختونخوا میں ہوئی ہیں، جبکہ کچھ خاندانوں کو اسلام آباد اور راولپنڈی سے بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی اب روزانہ کی بنیاد پر جاری رہے گی۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں اور مقامی سماجی کارکنوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ان جبری ملک بدری کے فیصلوں پر نظرِ ثانی کرے، خاص طور پر اُن افراد کے حوالے سے جنہیں طالبان کے زیرِ اثر افغانستان میں جان کا خطرہ لاحق ہے۔

یہ مہاجرین پاکستان میں کئی دہائیوں سے آباد ہیں۔ 1979ء میں سوویت حملے، پھر 1990ء کی خانہ جنگی، اور 2021ء میں طالبان کی واپسی کے بعد لاکھوں افغان شہریوں نے پاکستان میں پناہ لی تھی۔ اب ایک بار پھر اُنہیں زبردستی اُس سرزمین کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، جہاں ان کی سلامتی یقینی نہیں

Previous Post
Next Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »