اسلام آباد: مالی سال 2025 کی سرکاری رپورٹ کے مطابق پاکستان کے سرکاری اداروں کے نقصانات میں 300 فیصد کا غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ماہرین اقتصادیات نے کہا ہے کہ یہ اضافی نقصانات بنیادی طور پر انتظامی بدانتظامی، غیر موثر منصوبہ بندی اور مالی نگرانی کی کمی کی وجہ سے ہوئے ہیں۔
اقتصادی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اصلاحات اور بہتر مالی کنٹرول نافذ نہ کیے گئے تو یہ رجحان مستقبل میں بھی جاری رہ سکتا ہے، جس سے ملک کی مالی پوزیشن پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
متعلقہ خبر
حکومتی ذرائع نے یقین دہانی کرائی ہے کہ نقصانات کم کرنے اور سرکاری اداروں میں شفافیت بڑھانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں گے۔ عوامی حلقوں میں بھی امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اصلاحات سے مستقبل میں سرکاری خسارے پر قابو پایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں
بین الاقوامی اقتصادی تجزیات کے مطابق پاکستان میں سرکاری اداروں کے مالی نقصانات کا مسئلہ عالمی سطح پر بھی زیرِ نظر ہے، اور مزید تفصیلات IMF پر دستیاب ہیں۔





