کابل: افغان سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ سال 2025 طالبان حکومت کے لیے عالمی تنہائی اور سفارتی ناکامیوں کی علامت بن کر سامنے آیا۔ افغان تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان کی سخت گیر پالیسیاں اور انسانی حقوق سے متعلق عالمی تحفظات کے باعث بین الاقوامی برادری سے تعلقات مزید خراب ہوئے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کسی بڑی عالمی طاقت یا مغربی ملک سے باضابطہ سفارتی تسلیم حاصل کرنے میں ناکام رہی، جبکہ اقتصادی پابندیاں اور امدادی رکاوٹیں بھی برقرار رہیں۔ اس صورتحال نے افغانستان کی معیشت اور عوامی زندگی پر گہرے منفی اثرات ڈالے۔
یہ بھی پڑھیں
علاقائی سطح پر بھی طالبان کو شدید سفارتی دباؤ کا سامنا رہا، جبکہ پڑوسی ممالک نے سکیورٹی اور انسانی بحران پر کھل کر تحفظات کا اظہار کیا۔ افغان عوام کے لیے روزگار، تعلیم اور صحت کی سہولیات مزید محدود ہوتی جا رہی ہیں۔
مزید پڑھیں
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق طالبان حکومت کو عالمی تنہائی سے نکلنے کے لیے پالیسی سطح پر بنیادی تبدیلیاں کرنا ہوں گی، جبکہ اس حوالے سے مزید تفصیلات Al Jazeera پر شائع کی گئی تجزیاتی رپورٹ میں دیکھی جا سکتی ہیں۔





