غزہ: غزہ میں انسانی بحران کے مزید سنگین ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جب اسرائیل نے 37 امدادی اداروں پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد خوراک، ادویات اور بنیادی سہولیات کی فراہمی متاثر ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے پہلے ہی مشکلات کا شکار شہریوں کی صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔
بین الاقوامی امدادی تنظیموں کے مطابق پابندیوں کے باعث غزہ میں ریلیف سرگرمیوں کو شدید دھچکا پہنچے گا۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ امدادی اداروں کی سرگرمیوں میں رکاوٹ لاکھوں افراد کیلئے خطرناک نتائج پیدا کر سکتی ہے، خاص طور پر بچوں اور بیمار افراد کیلئے حالات مزید تشویشناک ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ میں جاری صورتحال پر تازہ ترین اپڈیٹس
اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اٹھایا گیا ہے، تاہم عالمی سطح پر اس فیصلے پر تنقید سامنے آ رہی ہے۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر امدادی رسائی بحال نہ کی گئی تو غزہ میں انسانی بحران ایک بڑے المیے کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کی تفصیلات
عالمی اداروں اور میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ کی صورتحال پر شدید تشویش پائی جاتی ہے، اور اس معاملے پر ادارے جیسے اقوامِ متحدہ بھی فوری انسانی رسائی کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔