بیجنگ: چینی صدر شی جن پنگ نے تائیوان کے معاملے پر سخت اور واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین اور تائیوان کو ایک ہونے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی وحدت چین کی بنیادی پالیسی ہے اور اس مقصد کے حصول کیلئے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
چینی صدر کے مطابق تائیوان کا مسئلہ چین کا اندرونی معاملہ ہے اور بیرونی مداخلت خطے کے امن کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بیجنگ پرامن انضمام کو ترجیح دیتا ہے، تاہم قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقی ایشیا میں جیو پولیٹیکل کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین اور امریکا تعلقات میں حالیہ تناؤ
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق چینی صدر کا یہ بیان نہ صرف تائیوان کیلئے بلکہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کیلئے بھی ایک واضح پیغام ہے۔ خطے میں فوجی سرگرمیوں اور سفارتی بیانات نے عالمی منڈیوں اور سیکیورٹی ماہرین کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیا میں بدلتی جیو پولیٹیکل صورتحال
عالمی سطح پر تائیوان کا مسئلہ ایک حساس موضوع سمجھا جاتا ہے، جس پر بین الاقوامی میڈیا اور تجزیاتی ادارے جیسے بی بی سی بھی مسلسل رپورٹس اور تجزیے شائع کر رہے ہیں۔