تہران: ایران میں مہنگائی کے خلاف عوامی غصہ پُرتشدد مظاہروں میں تبدیل ہو گیا، جہاں مختلف شہروں میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران کم از کم 6 افراد جاں بحق ہو گئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عوام کو سڑکوں پر نکلنے پر مجبور کر دیا، جبکہ حالات قابو سے باہر ہوتے چلے گئے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان شدید تصادم ہوا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔ حکام کے مطابق صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے کیلئے اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے، تاہم کئی علاقوں میں کشیدگی برقرار ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ مظاہرین کے بنیادی مطالبات میں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے معاشی بحران پر مکمل رپورٹ
تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی پابندیوں اور اندرونی معاشی مسائل نے ایرانی معیشت کو سخت دباؤ میں ڈال رکھا ہے، جس کے اثرات براہِ راست عوام تک منتقل ہو رہے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک قیمتوں میں ریلیف نہیں ملتا، احتجاج جاری رہے گا، جس سے خطے میں عدم استحکام کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مشرقِ وسطیٰ میں جاری احتجاجی تحریکیں
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران میں معاشی بدحالی پر عوامی ردِعمل تیز ہو رہا ہے، جس پر عالمی ادارے اور میڈیا جیسے بی بی سی بھی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔