لندن: ایک برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق سال 2025 بھارت کیلئے غیر معمولی دباؤ اور بحرانوں کا سال ثابت ہوا، جہاں ایک طرف پاکستان کے ساتھ سفارتی کشیدگی برقرار رہی تو دوسری جانب امریکا کے ساتھ تجارتی محاذ آرائی نے نئی مشکلات کھڑی کر دیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ داخلی و خارجی چیلنجز نے نئی دہلی کی پالیسی سازی کو سخت امتحان میں ڈال دیا ہے۔
اخبار کے تجزیے کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی عدم استحکام کی فضا اور عالمی سطح پر تجارتی تنازعات نے بھارتی معیشت اور خارجہ تعلقات پر اثر ڈالا۔ رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ واشنگٹن کے ساتھ تجارتی اختلافات نے سرمایہ کاری کے ماحول اور برآمدی اہداف پر دباؤ بڑھایا، جبکہ سرحدی معاملات پر تناؤ نے سفارتی کوششوں کو محدود رکھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور بھارت تعلقات میں تازہ پیش رفت
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ 2025 میں بھارت کو بیک وقت کئی محاذوں پر توازن قائم کرنا پڑا، جس میں علاقائی سیاست، عالمی تجارت اور اندرونی معاشی ترجیحات شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مستقبل قریب میں مؤثر سفارتکاری اور معاشی اصلاحات ہی دباؤ کم کرنے کا راستہ بن سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا اور بھارت کے تجارتی تعلقات کا جائزہ
برطانوی میڈیا نے اس تناظر میں عالمی طاقتوں کے بدلتے رویّوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ جنوبی ایشیا کی سیاست پر عالمی اثرات بڑھ رہے ہیں، جس پر دی گارڈین سمیت دیگر بین الاقوامی ادارے بھی مسلسل تجزیے شائع کر رہے ہیں۔