روس-یوکرین جنگ کا حل؟ امریکی صدر کا پاک-بھارت جنگ بندی سے سبق لینے کا سنسنی خیز مشورہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 15 اگست 2025 کو ایک پریس کانفرنس کے دوران روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان اور بھارت کی حالیہ جنگ بندی کو مثال کے طور پر پیش کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ پاک-بھارت تنازعہ، جو مئی 2025 میں آپریشن سندور کے دوران عروج پر تھا، صرف چار دن میں جنگ بندی پر منتج ہوا، جس سے دونوں ممالک نے اپنی عسکری طاقت کا مظاہرہ کیا اور پھر سفارتی چینلز کے ذریعے امن قائم کیا۔ انہوں نے روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن اور یوکرین کے صدر سے اپیل کی کہ وہ اس مثال سے سبق سیکھیں اور فوری جنگ بندی کے لیے مذاکرات شروع کریں۔ ٹرمپ نے پاک-بھارت جنگ بندی کو امریکی ثالثی کی کامیابی قرار دیا، جس نے خطے میں بڑے پیمانے پر جنگ کو روک دیا۔
ٹرمپ نے الاسکا میں ہونے والے سربراہی اجلاس سے قبل یہ بیان دیا، جہاں روس-یوکرین تنازعہ ایجنڈے کا اہم حصہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر روس نے یوکرین میں فوجی کارروائیاں بند نہ کیں تو اسے “شدید نتائج” کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے ٹرمپ کے بیان کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے امن کی وکالت کرتا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر پاکستانی صارفین نے اسے سفارتی فتح قرار دیا، جبکہ بھارتی میڈیا نے اسے اپنی پوزیشن کمزور کرنے کی کوشش سمجھا۔ پاک-بھارت جنگ بندی، جو 10 مئی 2025 کو ہوئی، نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کیا تھا، لیکن بھارتی ایئر چیف کے حالیہ دعوؤں نے اسے دوبارہ گرم کر دیا۔ کیا ٹرمپ کا یہ مشورہ روس-یوکرین جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کرے گا؟





